جسم میں خون کی کمی بلکل دورہو جائے




جسم میں خون کی کمی انسان کو بہت ساری بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہے۔ خون کی کمی سے چہرےکی خوبصورتی بھی متاژرہوتی ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ عام ہے خصوصا حمل کےدوران خون کی کمی اوربھی برھ جاتی ہے خون کی کمی کی وجہ سے صحت بھی خراب ہوجاتی ہےڈاکڑکی ادویات اس پریشانی کا پراپرحل نہی ہےاس لیےآج آپ کے ساتھ ایک ایسا نسخہ شیئرکررہی ہوں جس کےزیعے آپ کے جسم میں خون کی کمی بلکل دورہو جائے گی یہ نایاب نسخہ نا صرف آپ کےجسم میں ریڈ سیلزکو بڑھائےگا بلکہ آپ کی صخت کو بھی اچھا بنائےگا خون کی کمی کو دور کرنے کا یہ سب سے زیادہ آسان نسخہ ہے صرف دس دن تک آپ یہ نسخہ استعمال کریں پھر اپنے گالوں کی لالی اور سرخی چیک کیجئے گا۔

شمش جسے انگور خشک کرکے بنایا جاتا ہے، اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔یہ مزیدار میوہ روز مرہ زندگی کے دوران عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں ہے کہ اگر کشمش کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ امراض سے پاک زندگی کی کنجی قبض سے نجات فائبرسے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔ خون کی کمی دور کرتاہے۔کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے، کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔ معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آنکھوں کی صحت بہتر کرے۔ کشمش میں موجود اجزاءآنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اورکیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹساور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے، کشمش کا استعمال وٹامنز،پروٹین اور دیگر غذائی اجزاءکو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔ کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے اس میوے میں موجودآئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔ اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔گردوں کی صحت کے لیے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔یقیناً اتنی خوبیاں جاننے کے بعد آپ آج سے ہی کشمش کا باقاعدگی سے استعمال شروع کر 

صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال



اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہے زیادہ تر لوگ دن کا آغاز ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے۔ ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہے روزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کےڈائیزیشن کو کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے ۔آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں۔

صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔ ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے ۔ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہے ۔روزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کے ڈائیزیشن کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے۔

آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں۔ صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔ پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے۔ جس سے آپ کو بیماریوں سے لرنے میں مدد ملتی ہے ۔پانی سخت مند زندگی کے لیے بہت ظرور ہے ۔ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال اپنی ڈیلی روٹین میں شروع کر لیجئے۔ اس انفارمیشن کو زیادہ سے زیاد شیئر کریں

استعمال کادرست طریقہ اور اس کے زبردست فائدے



ہلدی اور دودھ ہمارے جسم کے لئے بہت زیادہ مفید ہے اور اس بات کے بارے میں لوگ وقتاً فوقتاًبتاتے رہتے ہیں لیکن اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اس درست طریقے سے مکس کیاجائے ورنہ اس کا وہ فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اس کا خاصہ ہے۔آئیے آپ کو اسے ٹھیک طریقے سے مکس کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ 1۔ایک انچ لمبی ہلدی کی سٹس لیں۔یاد رکھیں کہ پسی ہوئی ہلدی زیادہ فائدہ مند اس لئے نہیں ہوتی کہ پیستے ہوئے

اسے بلند درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے جبکہ ملاوٹ کرنے والے پاﺅڈر کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ 2۔تھوڑی سی کالی مرچ بھی پیس لیں۔سفید والی زیادہ بہتر ہے۔ 3۔ایک کپ دودھ اور ایک کپ پانی کو مکس کریں اور تمام اجزاءکو اس میں 20منٹ تک ابال لیں۔ 4۔اس کے بعد جب ایک کپ پانی رہ جائے تو اس میں ایک چمچ شہد ڈال کر ٹھنڈا کرلیں۔اگر گلے میں درد ہوتو اس میں آدھا چمچ گھی ملا لیں اور نوش فرمائیںوہ ایک ان پڑھ خاتون تھی جسے والدین نے ایک اسکول ماسٹر ابو ظفر کے ساتھ اس کی زندگی کا ہمسفر بنا کر رخصت کردیا اور یوں عطیہ خاتون کی زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل پڑی ۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب خواتین کیلئے تعلیم سے زیادہ ضروری گھر گھرستی کو سمجھاجاتا تھا۔ لڑکی اس وقت تک سگھڑ نہ سمجھی جاتی جب تک وہ گھریلو امو ر ، سلائی کڑھائی اور دیگر کاموں میں کامل نہ ہو ۔

عطیہ خاتون بھی ایسی ہی ایک گھر گھرستی والی خاتون تھیں جسے تعلیم کی ابجد کا بھی اندازہ نہیں تھا ۔ خیر وقت گزرنے لگا اور سن 47آپہنچا ۔ اللہ نے پاکستان کی صورت میں ایک خوبصورت انعام سے مسلمانوں کو نوازا اور یوں ابو ظفر اور عطیہ خاتون بے سر و سامانی کی حالت میں پاکستان آگئے ۔ایک نیا جذبہ اور امیدوں کا خزانہ لیے ان پڑھ عطیہ خاتو ن گھر میں ہی اپنے خاوند سے زندگی اور تعلیم کی’’ الف، ب ‘‘سیکھتے سیکھتے میٹرک تک آپہنچیں ۔ دونوں میاں بیوی خوب محنت کررہے تھے اور جانتے تھے کہ ترقی کا واحد راستہ بس تعلیم ہی ہے جسے حاصل کرکے وہ دنیامیں اپنا الگ مقام بنا سکتے ہیں اور تبھی عطیہ خاتون کے دل میں بچو ں کو ڈاکٹر بنانے کے ساتھ ساتھ خود بھی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کا خیال آیا ۔خواب بڑا تھا مگر عطیہ خاتون کی ہمت سے زیادہ بڑا نہیں ۔ وقت گزرتا گیا۔ ابوظفر اور عطیہ خاتون کے آنگن میں یکے بعد دیگرے آٹھ پھول کھلے اور پھر جب ان کا بڑا پھول ٹیپو سلطان ڈو میڈیکل کالج کے آخری سال میں تھا تب عطیہ خاتون کو بھی بیٹے کے ہی میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ ماں باپ نے کسی قبولیت کے لمحے میں دعا کی تھی جو اُن کے آٹھوں بچوں کے حق میں قبول ہوئی اور پھر تھوڑے ہی عرصے میں ماں سمیت آٹھوں بچوں کے ہاتھ میں ڈاکٹری کی ڈگریاں تھیں ۔ اگلی دعا بچوں کیلئے ڈاکٹروں کے رشتے کی تھی جو قبول ہوئی ، یوں ایک ہی خاندان میں 16ڈاکٹر ہو گئے جو اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے ۔

وقت یونہی گزر جاتا اگر ایک ایک روز باپ بچوں کے سامنے یہ سوال نہ اٹھاتا کہ جس ملک نے تم لوگوں کو محض 209روپے سالانہ میں ڈاکٹر بنایا ،کیاتم اسے بھول جاؤ گے ؟ سوال نے بچوں کو جھنجوڑ ڈالا اور سب نے واپسی اختیار کر لی ۔پاکستان پہنچتے ہی بچوں سے جو پہلا آخری وعدہ ابو ظفر اور عطیہ خاتون نے لیا وہ ان کے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو بھی ڈاکٹری کی تعلیم دلانا تھا ۔ 1999میں ابوظفر کے خاندان نے کراچی کے ایک نواحی علاقے کوہی گوٹھ میں سکونت اختیار کر لی ، وقت ایک بار پھر پر لگا کر اڑ گیا اور اظفر خاندان کی اگلی نسل بھی طب کی تعلیم حاصل کرنے لگی ۔ابوظفر اور عطیہ خاتون اپنا وقت گزار چکے تھے ،بلاواآیا اور انہوں نے سفر آخرت سدھا ر لیا ۔ابو ظفر اور عطیہ خاتون نے واقعی اپنی اولاد کی تربیت مثالی کی تھی ۔ انہوں نے اپنے کراچی والے گھر جس کی موجودہ مالیت کم و بیش 15کروڑ کے لگ بھگ ہے اسے ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ۔

ہسپتال بنا اور اس کا نام کوہی گوٹھ منتخب ہوا۔ یہ ہسپتال اس قدر مشہور ہوا کہ عالمی اداروں نے اسے زچہ و بچہ کے حوالے سے جنوبی ایشیا کا سب سے بہترین ہسپتال قرار دیا اور یہاں پورے سندھ کی بچیاں مڈ وائفری کی تربیت پاتی ہیں ۔ابوظفر کے بیٹے اب بھی اس ہسپتال کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ اب وہ اس جگہ دنیا کی ایک بہترین یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں جس پر کام جاری ہے ۔نپولین بونا پارٹ نے واقعی بہت خوب کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں دنیاکی بہترین قوم دوں گا ۔

عطیہ خاتون نے ثابت کیا کہ ان پڑھ ہونے کے باعث ترقی اور آگے بڑھنے کا خواب نہ دیکھنے والے نادان ہیں ۔ انسان کوکیوں اشرف المخلوقات بنایا گیا؟ اس کی شاندار مثال عطیہ خاتون نے دی۔ آ پ کے کل کی وجہ سے، آپ آج کیا ہیں ؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کے آج کے بعد آپ کل کیا ہونگے ؟ بس یہی بنیادی بات ہے۔ غریب یا امیر؟ ، برا یا اچھا ؟ بے ایمان یا ایماندار ہونایہ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔

اگر’’ آج‘‘ مرحوم احسان دانش محنت مزدوری کرکے ، ایک کالج کی بنیاد میں اپنا خون پسینہ بہا کر ، اینٹیں ڈھو کر اپنے آنے والے ’’ کل ‘‘ میں اُسی کالج میں لیکچر دینے کیلئے استاد بن سکتے ہیں ، ایک ان پڑھ خاتون شادی اور بچوں کے بعد پڑھ لکھ کر ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن سکتی ہے تو آپ میں اور مجھ میں کیا کمی ہے ؟
اس تحریر کا اختتام کسی بڑے آدمی کے قول یا کسی اچھی بات مبنی نہیں بلکہ آپ سب قارئین اس تحریر سے کیا سبق لیں گے ؟ ہمارا اختتام بس اسی سوال پر ہے ؟

عورت تو کیا مرد کی دوسری شادی کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے



ہمارے کلچر میں عورت تو کیا مرد کی دوسری شادی کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب کے کچھ علاقوں کا کلچر اسکے برعکس ہے. سعودی عرب کے صوبے الا جساء کے دیہات اس لحاظ سے انتہائی منفر ہیں یہاں خواتین اپنے خاوندوں کیلئے خود نئی دلنہیں تلاش کرتی ہیں. یہ سلسلہ 1981ء میں اس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون نے اپنے خاوند کو دوسری شادی کی ترغیب دی. یہ خاتون اپنے خاوند کی نئی دلن کی تلاش میں خود نکلی اور بالا آخر اس کیلئے ایک نو عمر دلن کا انتظام کر ہی لیا. ابتداء میں تو

لوگوں نے اس خاتون کو پاگل قرار دیا لیکن اس نے یہ دعویٰ کر کے سب کو حیران کر دیا کہ اس پر آسیب کا سایہ تھا جب اس نے اپنے خاوند کی دوسری شادی کروائی تو آسیب جاتا رہا.اس واقعہ کے بعد ایک اور اہم واقعہ پیش آیا. معصومی محمد نامی خاتون کی شادی کو 16سال گزرنے کے باوجود اسکے ہاں اولاد نہیں تھی. اس نے بھی اپنے خاوند کی دوسری شادی کروا دی اور اسکے کچھ عرصہ بعد وہ خود بھی اولاد کی نعمت سے مالا مال ہو گئی. مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح متعدد اور واقعا ت بھی پیش آئے جسکے بعد خواتین نے اپنے خاوندوں کو خود ہی متعد دشادیوں کیلئے قائل کرنا شروع کر دیا. یوں الا حساء کے دیاہت میں یہ روایت اور مضبوط ہو گئی. اس کلچر سے گھریلو زندگی اطمینان بخش ہو گئی. ریاست مدھیہ پردیش ہی میں ایک گونڈ قبیلہ ہے جہاں کسی بھی خاتون کو بیوہ نہیں رہنے دیا جاتا. اخبار ٹائمز آف نڈیا کے مطابق اس قبیلے کی روایت کے تحر مرنے والے شخص کی بیوی کی شادی اسکے خاندان میں دستیاب کسی بھی مرد سے کر دی جاتی ہے. اگر مرنے والے کا بھائی یا کزن وغیرہ دستیاب ہو تو اس سے شادی ہو جاتی ہے ورنہ خاندان کے کسی بچے سے شادی کر دی جاتی ہے.

اگر خاندان میں کوئی بچہ بھی دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں کسی دوسرے خاندان کی خاتون اس بیوہ کو چاندی کی چوڑیوں کا تحفہ دیتی ہے اور اسے اپنے گھر لے جاتی ہے. یوں ایک کا خاوند دوسری کا بھی خاوند بن جاتا ہے. گونڈ قبیلے کے گاؤں بیانگہ سے تعلق رکھنے والے شخص پتی ارم کا کہنا ہے کہ جب اسکے دادا کا انتقال ہوا تووہ محض چھ برس کا تھا. اس کی بیوہ دادی سے شادی کیلئے کوئی بھی مرد موجود نہ تھا، لہذا اسکے دادا کی موت کے 9دن بعد فیصلہ کیا گیا کہ بیوی دادی چامری بائی کی شدی اسکے چھہ سالہ پوتے سے ہو گی. ایسے رسم و رواج کا مذہب سے تعلق نہیں ہے. روایت اور کلچر کی حیثیت رکھتے ہیں بعض روایات قابل رشک بھی ہوتی ہیں. پاکستان میں اجتماعی شادیوں کی روایت پختہ ہو رہی ہے. نوجوانوں میں بلڈ ڈونیشن کا رحجان بڑھ رہا ہے. لوگ اپنے اعضا تک عطیہ کر رہے ہیں. اعضا کی پیوند کاری ور بلڈ ٹرانفیوژن جدیددور کے عطیات ہیں. آج لاکھوں لوگ بلڈ ٹرانسفیوژن اور اعضا کی تبدیلی کے باعث زندگی کی نعمتوں سے دوبارہ سرفراز ہو رہے ہیں. یہ سب جدید ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے جس کی اساس اور بنیاد تعلیم ہے جسے با مقصد علم قرار دیا جاتا ہے. علم کے ذریعے انسان دل تک کا ٹرانسپلانٹ ممکن ہوا اور انسان چاند کو تسخیر کرنے کے بعد مریخ کا سفر اختیار کر رہا ہے. ہم تعلیم کے ذریعے ہی قبیح اور کر یہہ رسوم سے نجا ت حاصل کر سکتے ہیں. ہمارے ہاں کارو کاری، ونی، سوبارہ اور مذہبی کتابوں سے شادی جیسے رواج پائے جاتے ہیں .

جہالت کے اس اندھیرے سے علم کی روشنی ہی سے نکالا جا سکتا ہے . یہاں فلسفیانہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے. تعلیم و علم کیا ہے ؟ ہمیں سر دست اس تعلیم کی ضرورت ہے جو سکولوں میں دی جاتی ہے. تعلیم کی ابتدا یہی ہے جس نے ایتم بم ایجاد کیا وہ بھی کبھی پہلے روز سکول گیا تھا. ہمارے عطیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی تعلیم کا آغاز سکول سے کیا تھا. سکول ایک دونی دونی والا ہو یا ٹوئینکل ٹوئینکل لٹل سٹار والا، تعلیم کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے. اسکے بعد تعلیم کے اعلیٰ مدارج شروع وہتے ہیں . یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کچھ لوگوں کا ’’ کچھ نہیں بگاڑتی ‘‘ وہ جہالت کے گھپ اندھیروں میں ہی زندگی گنوا اور گزار دیتے ہیں، انکی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو سکتی ہے جبکہ تعلیم اکثر کی زندگی اور عاقبت کو سنوار دیتی ہے، انکی زندگیوں کو منور کر دیتی ہے اور معاشرے میں اعلیٰ اقدار کی کار فرمائی کا سبب بھی بنتی ہے. آج تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں. تبدیلی قوم کو با شعور بنائے بنا نہیں آ سکتی ہے. جس کا اہم ترین ذریعہ تعلیم ہے اور ہم تعلیم سے ابھی بہت دور ہیں. معاشرہ تعلیم یافتہ ہو گا تو تبدیلی کیلئے نعرے لگانے، دعوے کرنے اور ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی ضرور ت نہیں رہے

بے اولاد حضرات کے لئے تحفہ


ہر وظیفہ پورے دل سے کیا کریں اور پورے دھیان سے تبھی آپکو اس میں اچھے نتائج ملیں گے ۔ وظیفہ میں نماز کی پانچ وقت کی پابندی کا خا ص خیال رکھیں آج ہم آپکو جو وظیفہ بتا رہے ہیں اس سے آپکو فائد ہ ہوگا۔ وظیفہ کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال مت کریں ، غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے غلط نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔وظیفہ کیلئے نماز کی پابندی لازمی ہوتی ہے ، اگر آپ پانچ وقت کی نماز ادا نہیں کریں گے تو وظیفہ کر نے کاکچھ اثر نہیں ہوگا۔ ، اگر کوئی شخص اولاد سے محروم ہو تو سورۃ ا لکوثر کو باوضو پانچ سو بار روزانہ پڑھا کرے اور پابندی کے ساتھ یہ عمل مکمل تین ماہ تک کرے انشاء اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہو جائے گا۔ اگر ہزاربار اول وآخر درود شریف گیارہ گیارہ بار پڑھا کرے اس نیت سے کہ حضورﷺ کی زیارت نصیب ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ زیارت فیض بشارت سے کامیاب ہوگا ۔
نزول باراں رحمت کے وقت ایک سو بار پڑھیں جو دعا مانگے قبول ہوگی ۔ اگر کسی دشمن نے گھر میں جادو دفن کر دیا ہو، اس سورۃ کا ورد کرنے سے جادو دفن کر نے کی جگہ معلوم ہوجائیگی اور جادو کا اثر دور ہو جائے گا۔ وظیفہ یا عمل پورے یقین سے کریں ، شک عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، پوری توجہ کے ساتھ وظیفہ پڑھا جائے ، اور دعا پورے دل اور خشوع و خضوع سے مانگیں ، رزق حلال کا اہتمام کریں ، حرام غذا عمل کے اثر کو ختم کر دیتی ہے ، ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے کریں ، مالک راضی ہوگا تو کام بنے گا۔ ان افراد کے وظائف اور عمل بے اثر رہتے ہیں جو نماز اور دیگر فرائض ادا نہیں کرتے ۔ حرام کاموں سے بچیں ، حرام کاموں سے روحانیت کو نقصان پہنچتا ہے تب عمل اثر نہیں کرتا ۔ الفاظ کی تصیح کا اہتمام کر یں الفاظ غلط پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ، صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام کریں ۔ مودبانہ گزارش ہمارا ہدف آپکو بہترین معاشرتی, تاریخی ,معلوماتی،اور اصلاحی تحریریں پیش کرنا ہے جس میں آپ کا ایک شیئر بہت بڑا کردار بطور صدقه جاریہ ادا کرسکتا ہے. آئیں ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی اس کار خیر کا حصّه بننیں

Best mehndi design

Best mehndi design







Hand mehndi new designs

Hand mehndi new designs




































Best mehndi designs for eid ul adha

Best mehndi designs for eid ul adha