5 Healthy Food Swaps for Weight Loss



Swap 1 | Use Light Mayo:

Replace your mayonnaise with a low-fat. Light mayonnaise can reduce 35 calories per tablespoon. Low-fat mayo reduce about 1 gram fats and nearly 15 calories.

Swap 2 | Skip Egg Yolk:

Just hold yourself from eating egg yolks. It will save 59 calories and 5 grams of fat. One egg has 75 calories and 5 grams fats but the fact is that most of the fat is in the yolk. Egg white contains just 16 calories and no fat.

Swap 3 | From Chips to Popcorn:

Adopt habit of popcorns in place of chips. A normal pack of chips (usually 28 grams) contains 150 calories with 10 grams of fats. Replace it with a pack of popcorns (250 mL) which has 31 calories and no fats.

Swap 4 | Eat Fish:

Cooking beef in our homes is normal. Beef is cooked 2 to 3 times a week normally. You can swap it with fish. A 75 gram beef steak has around 230 calories and 14 grams of fats. The same serving of fish has 80 calories and 1 gram fats.

Big Difference!

Swap 5 | Try Potato Salad:

Consider eating potato salad instead of French fries. It will significantly help you control your body calories. Pour mustard paste instead of mayonnaise to cut even more calories.

کیلا کچا ہو یا پکا، رنگ بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنی غذائی فوائد کیسے تبدیل کرتا ہے؟ ج


کیلا دنیا میں سب سے زیادہ کھایا جانے والا پھل ہے اور اسکے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اس حوالے سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ کیلا اپنے رنگ کے ساتھ ساتھ اپنے غذائی اثرات بھی تبدیل کرتا ہے- اس حوالے سے ماہرین کی ریسرچ کے نتائج نہ صرف بہت حیرت انگیز ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بہت مفید بھی ہیں اس حوالے سے آج ہم آپ کو بتائیں گے- 

1: کچا یا سبز کیلا
کیلا عام طور پر اپنے درخت سے سبز حالت یا کچی حالت میں ہی علیحدہ کر لیا جاتا ہے یہ کیلے اگرچہ ذائقے میں میٹھا نہیں ہوتا مگر اسٹارچ سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں ڈائٹری فائبر بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں- جس کی وجہ سے یہ انہضام کے عمل کو بہتر بناتا ہے اور دیر سے ہضم ہونے کے باعث وزن کو کم کرنے کا بھی باعث بنتا ہے اور چونکہ یہ میٹھا نہیں ہوتا ہے اس لیے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہوتا ہے ایک تحقیق کے مطابق کچا کیلا ، ڈائریا ، بڑی آنت کے کینسر کے مریضوں ، بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اور کولیسٹرول کی خون میں مقدار کو کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے- 

2: پیلا یا پکا کیلا
یہ کیلا سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیوں کہ اس کا اسٹارچ اب گلوکوز ، سکروز اور فرکٹوز میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کو میٹھا بنا دیتا ہے یہ کیلا پوٹاشیم سے بھی بھر پور ہوتا ہے اس لیۓ اس کو دل کے مریضوں کے لیۓ بہت فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود کیلیشیم کی بڑی مقدار ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور وزن میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بینائی کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے کیوں کہ اس میں ایسے مٹامن موجود ہوتے ہیں جو بینائی کو بہتر بناتے ہیں- 

3: پکا ہوا داغ دار کیلا
کیلا جیسے جیسے پکتا جاتا ہے اس میں موجود غذائیت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے جب اس پر براؤن دھبے پڑنے شروع ہو جائیں تو یہ کیلا انسان کے خون کے اندر موجود سفید سیل کے لیے بہت مفید ہوتا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے جس سے انسان کے اندر قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے یہ چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کے لیے بہت بہتر ہوتا ہے کیوں کہ ایک جانب تو یہ زوڈ ہضم ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے کی تیزابیت میں بھی کمی کرتا ہے اور اس کے اینٹی آکسیڈنٹ اجزا کینسر کے خطرے کو بھی کم کرتے ہیں- 

4: براؤن یا گلا ہوا کیلا
اس کیلے کو زیادہ پکے ہوئے ہونے کے سبب لوگ کھانا پسند نہیں کرتے ہیں اس کیلے میں ایک جز ٹرائٹوفن کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے جو کہ اسٹریس اور ڈپریشن کے مریضوں کے لیے بہت بہتر ہوتا ہے یہ بہت جلد ہضم ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور پثھوں کے لیۓ بہت مفید ہوتا ہے-

انجیر اور اخروٹ کو ملا کر کھانے کا حیرت انگیز فائدہ



خشک میوہ جات ! سردیوں کا خاص تحفہ 
بادام صدیوں سے قوت حافظہ اور بینائی کے لئے مفید قرار دیا جاتارہا ہے ۔ اس میں وٹامن اے ،بی کے علاوہ روغن اور نشاشتہ بھی موجو د ہوتا ہے ۔ یہ اعصاب کو طاقتور بناتاہے ۔ دماغی کام کرنے والوں کے لئے اس کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے ۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سوگرام بادام کی کیلشیم کی مقدارمیں 254ملی گرم ، فولاد 2.4ملی گرام ، فاسفورس 475ملی گرام اور حرارے 597ہوتے ہیں ۔ یہ خشک پھلوں میں بے پناہ مقبولیت کا حامل ہے ۔ یہ صحت مند چکنائی سے بھرپور ہونے کے سبب خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اور یوں اس کا استعمال دل کی تکلیف میں فائد ہ مند ثابت ہو سکتا ہے نیز اس کی بدولت عارضہ قبل میں مبتلاء ہونے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں ۔ 

اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق 3اونس بادام کا روزانہ استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو 14فیصد تک کم کرتا ہے ۔ بادام ایک خشک بیج والا پھل ہے ۔ بادام کی نویا گیارہ گریاں رات کو پانی میں بھگو دیں صبح نہارمنہ ان کا چھلکا اُتار کر کھائیں تو دماغی قوت میں بہت اضافہ ہوتا ہے ۔ یہ رگوں کی خشکی اور دماغی گرمی کو زائل کرتا ہے ۔ اس کی سردائی جسم اوردماغ کو طاقت دیتی ہے ۔ اس لئے اس کا استعمال زیاد ہ کرنا چاہیے اس کا حلوہ نزلہ، زکام ، سردرد 
کے لئے مفید ہے
سردیوں کے موسم میں نمک لگے ہوئے پستے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے لیکن ہائی بلڈ پریشر کے مریض ان سے اجتناب برتیں کیونکہ نمک کا ضرورت سے زیادہ استعمال ان کی صحت کے لئے مناسب نہیں ، پستے میں وٹامن بی پایا جاتا ہے اس کے علاوہ کیلشیم اور پوٹاشیم بھی اچھی خاصی مقدار میں ہوتے ہیں ۔ خوش ذائقہ ہونے کے باعث پستے کو مٹھائیوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ پستہ حافظے اور دماغ کو طاقت دیتا ہے ۔ جسم کو فربہ کرتا ہے ، معدے اور گردوں کو تقویت بخشتا ہے ۔ جسمانی قوت کو بڑھاتا ہے ۔ خون صاف کرتا ہے ۔ کھانسی میں مفید ہے ، بلغم کو صاف کرتا ہے ۔ مٹھی بھر پستے روزانہ کھانے سے امراض قلب کے خطرے سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ 

ماہرین نے ایک گروپ کو روزانہ تقریباً نوے گرام پستے کھلائے ۔ ایک ماہ کے بعد معلوم ہو اکہ ان کے مجموعی کولیسٹرول میں 8.4فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مضر صحت کولیسٹرول بھی کم ہوا ۔ جن غذاؤں میں پستہ شامل کیا جاتا ہے ان غذاؤن کے استعمال کرنے والوں میں مفید صحت کولیسٹرول کے مقابلے میں مضر صحت کولیسٹرول کی مقدار کم رہتی ہے ۔ پستے میں کیلشیم ، پوٹاشیم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ جو باقاعدگی سے گری دار میوے مثلاً پستہ کھاتے ہیں ان کا جسمانی وزن کم رہتا ہے اور ان میں خطرناک قسم کے امراض میں مبتلاہونے کا اندیشہ بھی کم رہتا ہے ۔ پستے جسم میں حرارت بھی پیدا کرتے ہیں جبک قوت حافظہ ، دل ، معدے اور دماغ کے لئے بھی مفید ہیں ۔ 
اخروٹ کی شکل بالکل انسانی دماغ کی طرح ہوتی ہے ۔ یہ وہ غذائی جزو ہے جو دماغ کو صحت مند طور پر کام کرنے کے قابل رکھنے کے لئے بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔
اخروٹ کھانے سے حراروں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے تیل کی مالش فالج اور لقوہ میں مفید ہے ۔ سردیوں کے موسم میں اکثر جوڑوں کے درد کی تکلیف رہتی ہے ۔ دل اور دوران خون کے نظام میں بھی فائدہ مند ہے ۔ معالج کے مشورے سے اخروٹ کھانے سے کولیسٹرول نارمل رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ کینسر کے ممکنہ حملے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔  
بڑی آنت کے کینسر ، چھاتی کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے ۔ اخروٹ اومیگا 3فیٹی ایسڈ کے حصول کا اہم ذریعہ ہے ۔ اخروٹ کو انجیر کے ساتھ کھانے سے زہر اثر نہیں کرتا ۔ 
دوران حمل ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اس کا استعمال ماں کے بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے اور اس کے علاوہ پیداہونے والے بچے کی آنکھوں اوردماغ کے لئے مفید ہے ۔ اس کاتیل استعمال کرنے سے سر میں جوؤں اور خشکی سے نجات ملتی ہے ۔ جلد کے داغ دھبوں کی صورت میں اخروٹ کو پیس کر پانی میں ملا کر ایک پیسٹ بنالیں اور اس کا لیپ داغ پر کریں ۔ نشان مدہم ہوجاتے ہیں ، تاہم بیرونی استعمال کے لئے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلیں ۔

کاجو ! وٹامن اور منرلز سے بھرپور


سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں خشک میوہ جات کا استعمال برھ جاتا ہے ۔ سردیوں میں موسمی اثرات سے بچاؤ کے لئے یہ بہت مفید ہیں ۔خشک میوہ جات میں ایک خوش ذائقہ میوہ کاجو بھی ہے۔ 
کاجو جنوبی ہندوستان کے جنگلوں میں کاشت کی جاتی ہے ۔ اس کے درخت کی بلندی دس سے بارہ میٹر ہوتی ہے ۔ اس درخت سے زرد مائل گوند نکلتا ہے ۔ اس کی شاخوں سے چار انگشت ٹوپی جسی نکلتی ہے پھر اسمیں پھل لگتا ہے جس کی پیندی چوڑی ہوتی ہے ۔ سرپتلا اور بے نوک ہوتا ہے ۔ اس پھل چھلکا بہت نرم ہوتا ہے جو اوپر سے سرخ یا زردی مائل ہوتا ہے ۔ اس کا مغز میٹھا ہوتا ہے ۔ اس پھلے کے نیچے دورگیں دو خطوں کی طرح نکلتی ہیں ان دونوں کے درمیان دو بیج بندھے رہتے ہیں جن کی شکل گودے جیسی ہوتی ہے ۔ چھلکوں کے اندر سفید مینگ سی ہوتی ہے ۔ جس کا مزہ لذت سے بھرپور ہوتا ہے ۔ کھانے میں بادام سے مشابہت رکھتا ہے ۔یہی کاجو ہے ۔  کاجو کی برفی برصغیر کی ایک پسندیدہ مٹھائی ہے جو بہت لذیذ ہوتی ہے دنیا بھر میں کاجو کا استعما ل بہت ذوق وشوق سے کیا جاتا ہے ۔ اس میں گائے کے قیمے جتنی طاقت ہوتی ہے ۔ سوگرام کاجومیں سو حرارے اور 51فیصد گرام چکنائی ہوتی ہے ۔ کاجو میں موجود چکنائی اچھی چکنائی کہلاتی ہے جو ہماری صحت کے لئے مفید ہے ۔ ہائی بلد پریشر کے مریض کو نمکین کاجو سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ یہ صحت بخش خشک میوہ ہے کیونکہ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا ۔ یہ ذیابطیس دور کرنے میں بھی مددگار ہوتا ہے ۔ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں کیلشیم ، میگنیشیم اور تانبا کافی مقدارمیں موجود ہے ۔ خواتین اپنے کھانوں میں بھی مختلف طریقوں سے اسے استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اسے سلاد میں بھی استعمال کی اجاتا ہے ۔ اس صحت بخش میوے کو ضرور استعما ل کریں تاکہ آپ صحت مند رہیں ۔